اٹک : قومیں تعلیم سے بنتی ہیں ، پاکستانی معاشرہ میں تعلیم کو اہمیت ہی نہیں دی جارہی ، ملک بھر میں ہر ادارہ و مارکیٹس کھلی ہیں جبکہ ایس او پیز پر 100 فیصد عمل کرنے والے ادارے ، سکولز ، کالجز کو بند کر کے تعلیم کا بیڑاغرق کیا جا رہا ہے تعلیمی نقصان کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں ، حکومت عملی اقدامات اٹھا کر بیماریوں کی روک تھام کرنے کی بجائے تعلیمی اداروں کی بندش کی راہ اپنا رہی ہے جو کہ ملکی مستقبل کے لئے انتہائی مہلک ہے ان خیالات کا اظہار ناظم مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اٹک عبدالوہاب اعوان ، ناظم عمومی محمد الیاس ، ناظم اطلاعات ایم ایس او اٹک عبدالواجد عثمانی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی کی راہ علم سے جڑی ہوئی ہے علم ہی ہمارے روشن ماضی کا چراغ تھا اور یہی ہمارے روشن مستقبل کا ضامن ہے کرونا وائرس اور سردی کی لہر میں بہترین حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں حکومت تعلیمی اداروں کی بندش کی بجائے ان بیماریوں سے نبرد آزما ہونے کی راہیں تلاش کرے اس وقت ملک بھر میں تمام ادارے اوپن ہیں جبکہ تعلیمی ادارے جہاں ایس او پیز پر 100 فیصد عمل کیا جا رہا ہے انہیں بند کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے حکومت کس کی ایماء پر تعلیم دشمن اقدامات کر رہی ہے تعلیم کا ہرج اور بچوں کے قیمتی اوقات کا ضیاع روکنے کے لئے تعلیمی اداروں کو فوری کھولنے کا اعلان کیا جائے ۔
Post Top Ad
Your Ad Spot
تازہ ترین
.
Thursday, November 26, 2020
Home
اٹک
قومیں تعلیم سے بنتی ہیں ، پاکستانی معاشرہ میں تعلیم کو اہمیت ہی نہیں دی جارہی ، ملک بھر میں ہر ادارہ و مارکیٹس کھلی ہیں جبکہ تعلیمی ادارہ بند کر دئیے گئے:ناظم ایم ایس اٹک عبدالوہاب اعوان
قومیں تعلیم سے بنتی ہیں ، پاکستانی معاشرہ میں تعلیم کو اہمیت ہی نہیں دی جارہی ، ملک بھر میں ہر ادارہ و مارکیٹس کھلی ہیں جبکہ تعلیمی ادارہ بند کر دئیے گئے:ناظم ایم ایس اٹک عبدالوہاب اعوان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Post Top Ad
Your Ad Spot
Author Details
ڈیلی وائس آف اٹک ایک ایسا پلاٹ فارم ہے جہاں پرہم آپ کو اٹک میں ہونے والے
مخلتف واقعات،فنکشن اور پروگرامات سے باخبر رکھیں گے ،اور اٹک کی سیاسی ،سماجی ،مذہبی
شخصیت سے تعارف کروائیں گے اور اٹک میں موجود ٹیلینٹ اورآپ کے مسائل کو
اجاگر کریں گے۔آئیے ہمارا ساتھ دیجیےاپنے علاقے کی آواز بنیں۔اپنے کسی بھی فنکشن،پروگرام،تقریبات، دیگرمسائل کو اجاگر کر نے کیلئے ہم سے رابطہ کریں۔

No comments:
Post a Comment