تفصیلات کے مطابق عرصہ دراز سے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک امانت خان راول اور اُنکے سپورٹران کے صوبائی وزیر کرنل(ر) ملک محمد انور خان کیساتھ دیوانی مقدمات کے حوالے سے مخالفت چلی آ رہی ہے جسکی نسبت راول کے مقام پر زمین کے قبضے کے حوالے سے لڑائی جھگڑے کا ایک حالیہ واقعہ رونما ہوا , دونوں فریقین کیجانب سے مقدمات کا اندراج ہوا جس میں کرنل (ر) ملک محمد انور خان گروپ کے اختر بجال کا نام پہلی مرتبہ میڈیا میں ہائی لائیٹ ہوا مقدمات کی رنجش بڑھتی چلی گئی اور اختر بجال اور اُسکے ساتھیوں کی فتح جنگ کے مقام پر ملک امانت خان راول کیساتھ ہاتھا پائی کے واقعے نے معاملات میں مزید تلخی پیدا کر دی ,ملک امانت خان راول نے فتح جنگ واقعے پر اختر بجال کیخلاف قاتلانہ حملہ کرنے کی ایف آئی آر درج کروائی اور بعد ازاں اُسکا سارا ملبہ صوبائی وزیر کرنل (ر) ملک محمد انور خان پر ڈال دیا اور اِس واقعے کے حوالے سے کمیٹی چوک پنڈی گھیب کے مقام پر مذمتی جلسہِ عام منعقد کر ڈالا اور اسلام آباد پریس کلب میں یکے بعد دیگرے پریس کانفرنسز کرکے صوبائی وزیر ملک محمد انور خان پر مزارعین پر ظلم وستم ڈھانے کے الزامات عائد کیئے ,یہ بات سرکاری ریکارڈ سے بھی چیک کیجا سکتی ہے کہ اختر بجال پر ایک درجن کے قریب ایف آئی آرز درج تھیں مگر ملک امانت خان راول کیجانب سے ہاتھا پائی کے واقعے کے بعد کمیٹی چوک پر مذمتی جلسہ عام اور اسلام آباد پریس کلب میں درجنوں لوگوں کو جمع کرکے معاملے کو ہائی لائیٹ کرنے کی کوشش نے معاملے پر جلتی پر تیل کا کردار ادا کیا ,اس دوران 13 اکتوبر کو اختر بجال کو اُسکے گھر کے قریب فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا , لواحقین نے مقتول کیساتھ حالیہ رنجش کی بنیاد پر سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک امانت خان راول اور نور محمد راول کا نام ڈائریکٹ قتل کی ایف آئی آر میں نامزد کر دیا ,ملک امانت خان راول اور نور محمد راول نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ سے مقدمے کے اندراج کے بعد قبل از گرفتاری ضمانت کروائی بعد ازاں مقدمے کی تیسری پیشی پر فتح جنگ پولیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر لہراسب خان نے عدالت میں ضمنی بیان / تفتیش ریکارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ثبوتوں کی بنیاد پر ملک امانت خان راول اور نور محمد راول وقوعے کے وقت موقع پر موجود ہی نہ تھے , جسٹس ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ صادق محمود خرم نے ملک امانت خان راول کو پولیس کے تفتیشی افسر کی پیش کردہ ضمنی رپورٹ کی روشنی میں ملک امانت خان راول کے وکیل چوہدری افراسیاب کیجانب سے عدالت میں ضمانت واپس لیئے جانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے درخواست نمٹا دیمقتول اختر بجال کے لواحقین نے مقدمے کے تفتیشی آفیسر کی حالیہ تفتیش کیخلاف ڈی پی او اٹک کو درخواست دیتے ہوئے نئے تفتیشی افسر کے ذریعے ازسرنو تفتیش کرانے کی استدعا کر دی ہےمگر قانونی ماہرین کے مطابق تفتیشی آفیسر کی موجودہ ضمنی رپورٹ آنے کے بعد امیدوار صوبائی اسمبلی ملک امانت خان راول اور اُنکے بھائی ملک نور محمد مذکورہ مقدمے میں مضبوط پوزیشن پر موجود ہیں ,اختر بجال قتل کیس میں تفتیشی آفیسر کیجانب سے بےگناہ کیئے جانے پر سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک امانت خان راول کا کہنا تھا کہ سچائی کی جیت ہوئی ہے ہمیں اللہ تعالی کی ذات پر پورا بھروسہ ہے ہمارے خلاف سازشیں کرنے والوں کو کچھ حاصل نہیں ہو گا , انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ ہوا ہے اور آئندہ بھی سرخرو ہونگے , ذرائع کے مطابق قتل کیس کی تفتیش میں بےگناہ قرار دیئے جانے پر سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک امانت خان راول کی رہائشگاہ پر مبارکباد کے لیئے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ,
Post Top Ad
Your Ad Spot
تازہ ترین
.
Sunday, November 22, 2020
Home
پنڈی گھیب
سچائی کی جیت ہوئی ہے ہمیں اللہ تعالی کی ذات پر پورا بھروسہ ہے ہمارے خلاف سازشیں کرنے والوں کو کچھ حاصل نہیں ہو گا :سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک امانت خان راول
سچائی کی جیت ہوئی ہے ہمیں اللہ تعالی کی ذات پر پورا بھروسہ ہے ہمارے خلاف سازشیں کرنے والوں کو کچھ حاصل نہیں ہو گا :سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک امانت خان راول
Tags
پنڈی گھیب#
Share This
About وائس آف اٹک
پنڈی گھیب
Tags:
پنڈی گھیب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Post Top Ad
Your Ad Spot
Author Details
ڈیلی وائس آف اٹک ایک ایسا پلاٹ فارم ہے جہاں پرہم آپ کو اٹک میں ہونے والے
مخلتف واقعات،فنکشن اور پروگرامات سے باخبر رکھیں گے ،اور اٹک کی سیاسی ،سماجی ،مذہبی
شخصیت سے تعارف کروائیں گے اور اٹک میں موجود ٹیلینٹ اورآپ کے مسائل کو
اجاگر کریں گے۔آئیے ہمارا ساتھ دیجیےاپنے علاقے کی آواز بنیں۔اپنے کسی بھی فنکشن،پروگرام،تقریبات، دیگرمسائل کو اجاگر کر نے کیلئے ہم سے رابطہ کریں۔

No comments:
Post a Comment